ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی میں تھانہ وارث خان اور گنج منڈی کی حدود میں چوری کے موبائل فونز سرعام فروخت کئے جا رہے ہیں جب کہ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ شہریوں سے گن پوائنٹ پر چھینے گئے قیمتی موبائل فونز سستے داموں فروخت کئے جاتے ہیں جب کہ چور بازاروں میں فروخت ہونے والے موبائلز وارداتوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔
مہنگے ڈیجیٹل موبائل فونز سستے داموں خریدنے کے لئے شہریوں کی بھی بڑی تعداد ان چور بازاروں کا رخ کرتی ہے جہاں 20 سے 25 ہزار کے موبائل فونز 5 سے 8 ہزار روپے تک میں فروخت کئے جاتے ہیں، چور بازاروں میں موبائل بیچنے والے اور خریدار کے درمیان شناختی کارڈ کی شرط لازمی نہیں جب کہ سستے موبائل کے چکر میں بہت سے شہری بڑے جال میں بھی پھنس جاتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کی خبر پر پولیس حرکت میں آئی اور چور بازار سے 2 افراد کو حراست میں لے لیا جب کہ چوری کے موبائل فونز فروخت کرنے والے دیگر افراد کی گرفتاری کے لئے شہریوں سے پوچھ گچھ بھی شروع کردی ہے۔
مہنگے ڈیجیٹل موبائل فونز سستے داموں خریدنے کے لئے شہریوں کی بھی بڑی تعداد ان چور بازاروں کا رخ کرتی ہے جہاں 20 سے 25 ہزار کے موبائل فونز 5 سے 8 ہزار روپے تک میں فروخت کئے جاتے ہیں، چور بازاروں میں موبائل بیچنے والے اور خریدار کے درمیان شناختی کارڈ کی شرط لازمی نہیں جب کہ سستے موبائل کے چکر میں بہت سے شہری بڑے جال میں بھی پھنس جاتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کی خبر پر پولیس حرکت میں آئی اور چور بازار سے 2 افراد کو حراست میں لے لیا جب کہ چوری کے موبائل فونز فروخت کرنے والے دیگر افراد کی گرفتاری کے لئے شہریوں سے پوچھ گچھ بھی شروع کردی ہے۔

0 comments:
Post a Comment