Showing posts with label information. Show all posts
Showing posts with label information. Show all posts

Thursday, October 6, 2016

الیکٹرک گاڑیوں نے تیل کی منڈیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی




الیکٹرک گاڑیوں نے تیل کی منڈیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت نے حالیہ برسوں میں انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے جس کی ترقی نے تیل کی منڈیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔  اقتصادی خبروں کے لیے مخصوص خبر رساں ایجنسی “بلوم برگ” نے خبردار کیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کا تیزی سے ترقی کرنا تیل کی منڈیوں میں آئندہ بحران کا مرکزی سبب بنے گا جب کہ گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں نے بھی اس نوعیت کی گاڑیوں کی مانگ میں بے پناہ اضافے کی تصدیق کی ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ 6 برسوں کے دوران الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا میں چھا جائیں گی اور پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی روایتی گاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیں گی۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں تیزی سے جاری اضافے کے نتیجے میں محض آئندہ سات برسوں کے دوران تیل کی عالمی مانگ میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کمی آجائے گی اور اس مقدار میں عالمی مانگ میں کمی آنے سے یقینی طور پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں حد تک کمی واقع ہوگی۔ گزشتہ برسوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے بالخصوص فی بیرل 100 ڈالر کی قیمت تجاوز کرنے کے سبب الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو عالمی سطح پر انتہائی پذیرائی حاصل ہوئی۔

بلوم برگ کے مطابق دنیا میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی تین بڑی کمپنیوں نے منصوبہ بندی کی ہوئی ہے کہ بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا آغاز اوسطا 30 ہزار ڈالر کی قیمت سے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر کمپنیاں بھی اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہیں اور اس سلسلے میں مزید سستی گاڑیاں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 2022 تک الیکٹرک گاڑی کی قیمت روایتی گاڑی کے برابر ہوجائے گی اور یہ وہ نقطہ ہے جہاں سے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافے کا آغاز ہوجائے گا۔

Monday, September 5, 2016

آدھے سر کا درد، عارضہ قلب کا پیش خیمہ



آدھے سر کا درد، عارضہ قلب کا پیش خیمہ 

حال ہی میں ایک برطانوی طبی رسالہ میں یہ رپورٹ شائع کی گئی ہے کہ جو خواتین آدھے سر کے درد میں اکثر مبتلا رہتی ہیں وہ مستقبل میں عارضہ قلب کا بھی شکار ہو سکتی ہیں- جرمنی اور امریکہ کی ایک مشترکہ ریسرچ کے مطابق خواتین میں آدھے سر کی درد کی بیماری سے قبل عارضہ قلب کی بلکل بھی شکایت نہیں تھی- تقریباً ایک لاکھ خواتین کے چیک اپ کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ جو خواتین آدھے سر کی درد جیسی بیماری کا شکار ہوئی ہیں وہ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد عارضہ قلب کی شکایت کرتی ہوئی پائی گئیں

طبی ماہرین ایک میڈیکل اصطلاح "اورا" استعمال کرتے ہیں - "اورا " اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ جس میں خواتین آدھے سر کی درد سے پہلے یا بعد میں آنکھوں کے سامنے روشنی کی جھماکے محسوس کرتی ہیں اور اسی حالت میں کسی منظر کا کچھ حصہ دکھائی دیتا ہے اور کچھ نہیں اور مریض کو اپنا توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے- تحقیق سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ وہ خواتین جو "اورا" کا شکار ہوتی ہیں ان میں فالج کے اٹیک کے چانسز پچاس فیصد بڑھ جاتے ہیں

Tuesday, August 2, 2016

عروسی ملبوسات کے نئے چلن


شادی کی تقریب کو یادگار بنانے کے  لیے عروسی ملبوسات کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، تاکہ وہ پوری محفل میں یکتا دکھائی دے، گزشتہ چند برسوں میں اسی وجہ سے جہاں فیشن کی صنعت میں تیزی سے بدلاؤ آیا ہے، وہیں عروسی ملبوسات بھی اب گنی چنی بندشوں سے آزاد ہو چکے ہیں اور اب ان میں بھی کافی تنوع نظر آرہا ہے۔

ماضی میں دلہنوں کا لباس گوٹا لگے ہوئے سرخ رنگ  کے بنارسی غرارے، سرخ  چمک دار ساٹن کی  اونچی قمیص اور ٹشو یا جارجٹ کے دوپٹے پر مشتمل ہوتا تھا، جس کی کناری پر گوٹا اورکرن وغیرہ لگائی جاتی تھی۔ تاہم شادی بیاہ کی تقریبات میں وقت کے حساب سے جو تبدیلی آئی، تو عروسی ملبوس نے بھی فیشن کی دنیا میں دھوم مچا دی۔ اب دلہنیں، باقاعدہ ڈیزائنرز کی خدمات لے کر اپنا لباس ڈیزائن کرواتی ہیں۔ دراصل دلہنوں کے کپڑوں کی ایک تھیم ہوتی ہے، جس میں قدیم پس منظر کے ساتھ ساتھ جدید رحجان بھی جھلکتا ہے۔ عروسی لباس کی تیاری کوئی آسان کار نہیں رہا، ڈیزائنرز ایک ایک لباس پر بے انتہا محنت کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان کی قیمت اب لاکھوں روپے تک جا پہنچی ہے۔

یہ ملبوسات اتنے خوب صورت اور  دل کش ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر مغلیہ دور کی یاد آ جاتی ہیں، ان میں کلاسیکی جھلک آج کل کی دلہنوں کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ عروسی لباس میں میرون، گرے، گلابی، گولڈ بلیو اور سینڈ رنگ نمایاں ہیں، جن پر ہلکا سا  نگوں، اسٹون، ڈوری، زردوزی، کندن، شیشے، موتیوں، دبکے، زری وغیرہ کا کام کیا جاتا ہے، انہیں بروکیڈ، ویلوٹ، راسلک، اور سلک  کے کٹ ورک اور پیچ ورک سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے۔

غرارہ
اب ہمارے ہاں عروسی ملبوسات مخصوص رنگوں کی بندش سے آزاد ہو چکے ہیں۔ آج کل بھاری کام بنوانے کی جگہ لباس کے کٹس پر زور دیا جا رہا ہے، اسی لیے ڈیزائنرز  دلہن کے علاوہ بھی خواتین اور لڑکیوں  کے حساب سے مختلف رنگوں، سفید، گلابی فیروزی پرپل، گرے، رسٹ، گرین وغیرہ اور اسٹائلش ڈیزائن کے ساتھ منفرد غرارے متعارف کرا رہے ہیں، جن پر پرل، کرسٹل دبکہ، تلہ اور دیگر کام کیے جاتے ہیں۔ یہ لباس اتنے خوب صورت ہیں کہ  دیکھنے والا لمحہ بھر کو مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ قیمتی ملبوسات کی تیاری میں روایتی انداز کے ساتھ ساتھ جدت کو بھی مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ چھوٹی قمیصوں کے علاوہ لمبی کھلی چاک والی قمیصیں بھی غراورں کے ساتھ بہت دیدہ زیب لگتی ہیں۔

اب تو ہر رنگ کا گوٹا  بھی دست یاب ہے۔ ایسے قیمتی ملبوسات پر گوٹے کے کام کی مانگ بڑھ رہی ہے، جو دیکھنے میں بہت بھلا لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈھاکا پائجامہ، کیولٹس، کم گھیر اور ڈبل فرل والے غرارے بھی بہت پسند کیے جا رہے ہیں۔ پہلے کام دار یا بھری ہوئی قمیصوں کا فیشن  عروج پر تھا، مگر اب غراروں کی قمیصوں پر گلے آستین یا فرنٹ اوپن شیپ میں کام کروایا جا رہا ہے۔ دوپٹے کی ماتھا پٹی بھاری کام دار ہوتی ہے، کناروں پر پتلی بیل  سے اسے سجایا جاتا ہے، اس کے علاوہ جالی کے دوپٹوں پرنفیس کام بھی دلہنوں کے لباس کا حصہ ہیں۔

شرارے
ملبوسات کی اب اپنی دنیا اور منفرد پہچان بن چکی ہے، درزیوں کی جگہ ڈیزائنرز نے لے لی ہے، چھوٹی چھوٹی دکانوں سے نکل کر یہ فیشن ایبل بوتیک تک چلے گئے ہیں، یہ کہا جائے، تو غلط نہیں ہوگا کہ ملبوسات کی تیاری گلی محلوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ دھیرے دھیرے ایک صنعت کا روپ دھار چکی ہے، جو بے انتہا گلیمرس اور اسٹائلش پوشاک متعارف کرانے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔

شراروں کی اتنی اقسام دست یاب ہیں کہ خریدنے والا شش و پنچ میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کیا خریدے اور کیا نہیں؟ ایک نیا رجحان جو عروسی لباس میں دکھائی دے رہا ہے، وہ مغربی اور مشرقی انداز کا امتزاج ہے، اس وجہ سے ان میں بے تحاشا اقسام مل جاتی ہیں، جیسے شراروں کے ساتھ گاؤن چل رہے ہیں، جن پر نگوں کا نفیس کام اپنی بہار دکھا رہا  ہے۔ بغیر آستینوں کے کوٹ اور بھاری کام دار لانگ ٹیل شرٹ بھی شراروں کی دیدہ زیبی کو بڑھا رہے ہیں۔ ’ڈراپ کارنر‘ کے بعد ’فرنٹ ڈراپ‘ قمیصوں کا رواج بھی مقبول ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے روایتی لباسوں کا ایک جدید انداز سامنے آیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ لباس اب صرف عروسی ملبوس نہیں رہے، بلکہ عام لڑکیاں بھی اسے پہن رہی ہیں۔ شام کی تقریبات کے حساب سے سنہری، چمکتے دمکتے  شرارے قریبی رشتے دار خواتین اور کزن کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔

مغربی رجحان کو ذہن میں رکھتے ہوئے غرارے یا شرارے کے ساتھ میکسی اور جالی کا دوپٹا پہنا جا رہا ہے۔ بنارسی پٹیاں لگا کر شراروں کی زیبائش بڑھائی جا رہی ہے، ان پر نفاست سے کیا گیا کام لباس کی خوب صورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ ڈیزائنرز شراروں، غراروں پر کندن، پرل، کورے دبکے اور ڈائمنڈ کے کام کرواتے ہیں، جو بہت دنوں تک خراب نہیں ہوتا۔

لہنگا
آج کل لہنگوں میں کام دانی اور فرنچ کام پسند کیا جا رہا ہے۔ مغربی انداز کی لمبی اور چھوٹی میکسی لہنگوں کے ساتھ بنوائی جا رہی ہیں، جو جدت اور روایت کا ایک اچھا امتزاج ہے۔ ہلکے اور گہرے رنگ کے لہنگوں کے ساتھ کام والے دوپٹے، چوڑے یا پتلے بارڈر پر  باریک نفیس کام بھی فیشن میں ہیں۔

بازار میں ایسے ایسے کام دار شرارے، لہنگے اور غرارے  دست یاب ہیں کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں ان پر سے نہیں ہٹتیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری آج کل کی دلہنیں اس بدلتے ہوئے رواج سے استفادہ کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

Friday, July 22, 2016

سرخ گوشت گردوں کے لیے مضر ہے، تحقیق



سنگاپور: نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سرخ گوشت کی بہتات ایک بڑی آبادی میں گردوں کی ناکارگی کی وجہ بن سکتی ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپورکے ماہرین نے مشترکہ طور پر سنگاپور اور چینی افراد کا مطالعہ کیا جس میں 63 ہزار 257 چینی شہریوں میں کھانے کی عادات کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے 97 فیصد افراد سور اور دیگر جانداروں کا سرخ گوشت کھاتے تھے جب کہ 3 فیصد مچھلی اور مرغی کا گوشت کھاتے تھے جسے سفید گوشت کہا جاتا ہے۔

مطالعے کے 15 سال بعد تمام رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا ان میں سے جن افراد نے بہت زیادہ سرخ گوشت کھایا تھا ان میں سے کئی اینڈ اسٹیج رینل ڈزیز ( ای ایس آر ڈی) تک پہنچ گئے تھے، جن افراد نے بے تحاشہ سرخ گوشت کھایا تھا ان میں ای ایس آرڈی کا خطرہ 40 فیصد بڑھ گیا جب کہ دال، مرغی اور مچھلی کھانے والوں میں یہ کیفیت نہیں دیکھی گئی۔ اس کےعلاوہ ایک گروہ کو سرخ گوشت کی بجائے دیگر اقسام کے پروٹین کھلائے گئے تو ان میں ای ایس آر ڈی کا خطرہ 62 فیصد تک کم ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق بکرے اور گائے کے گوشت کی بجائے دیگر ذرائع سے پروٹین کے حصول کا طریقہ اختیار کرنے سے گردوں کےامراض سے بچا جاسکتا ہے اس لیے خوراک میں احتیاط سے گردوں کے امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے سرخ گوشت کھانے والے افراد کو دودھ، مچھلی، سبزیوں اور سفید گوشت کا استعمال بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔

Tuesday, July 19, 2016

اسٹرابری کینسرسمیت دیگرامراض کے خلاف مؤثرہے، تحقیق



لندن: بچوں اوربڑوں میں یکساں مقبول اسٹرابری کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کا باقاعدہ استعمال نہ صرف کینسرکوروکتا ہے بلکہ عمر کے ساتھ ساتھ لاحق نابینا پن کو بھی روکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسٹرابری میں نارنجییوں کے برابر وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ اس میں موجود فائٹونیوٹریئنٹس صحت پر بہت مفید اثرات مرتب کرتے ہیں۔  اس بنیاد پر اسٹرابری کو دل کا محافظ، جلن سے بچانے والا پھل اور سب سے بڑھ کر کینسر کو روکنے والی جادوئی نعمت قرار دیا جاسکتا ہے۔

کینسر سے بچاؤ
اسٹرابری میں کینسر روکنے والے اینٹی آکسیڈنٹس، اینتھوسائننس اور ایلیجک ایسڈ کی بھرپور مقدارموجود ہوتی ہے۔ اینتھوسیانن اسٹرابری کو سرخ رنگ دیتے ہیں لیکن وہ خون میں فری ریڈیکلز بننے کے عمل کو روکتے ہیں جو خلیات کو سرطان زدہ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اسٹرابری کا استعمال پھیپھڑوں، معدے کی نالی، چھاتی اور زبان کے کینسر کی رسولی روکتے ہیں جب کہ اسٹرابری جگر کے کینسر کو بڑھنے سے روکتی ہے۔

بڑھاپا اور بصارت میں کمی
اسٹرابری میں وٹامن سی کی بھرپور مقدار ہوتی ہے جو آگے چل کر بصارت میں کمی کو روکتے ہیں۔ آرکائیوز آف اوپتھیلمولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق ہفتے میں اسٹرابری کی مناسب مقدار کھانے سے عمر سے وابستہ اندھے پن کا خطرہ 36 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اسٹرابری کے دیگر فواد میں یہ بڑھاپے میں دماغی کارکردگی اور یادداشت کو برقرار رکھتی ہے۔ اگر حاملہ خواتین دن میں صرف 8 اسٹرابری کھائیں تو نہ صرف ان میں فولیٹ کی 20 فیصد ضروریات پوری ہوجاتی ہے بلکہ ان کی اولاد پر بھی اس کے مفید اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹرابری نظامِ ہاضمہ کے لیے انتہائی مفید اور جلن و سوزش کو ختم کرنے کے حیرت انگیز خواص رکھتی ہیں۔

Wednesday, January 20, 2016

بٹ واکنگ ایپلی کیشن

بٹ واکنگ ایپلی کیشن کو پچھلے سال ستمبر میں لانچ کیا گیا تھا۔ یہ اپنی طرز کی منفرد ایپلی کیشن ہے جو پیدل چلنے والوں کو پیسے دیتی ہے۔یہ ایپلی کیشن پیدل چلنے والوں کو بٹ واکنگ ڈالر میں ادائیگی کرتی ہے۔ ایک بٹ اکنگ ڈالر کمانے کے لیے 10ہزار قدم تک پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ اسے لانچ کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ کمائے گئے بٹ واکنگ ڈالر سے کمپنی کے سٹور پر خریداری کی جا سکتی ہے یا پھر اسے بنک اکاؤنٹ میں بھی ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔

یہ ایپلی کیشن ابھی تک پرائیویٹ بیٹا ورژن میں ہے۔تاہم صارفین چاہیں تو سائن اپ کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ 

Monday, September 28, 2015

Jo Chalna Jante Hain

Thursday, September 10, 2015

5 Reasons You Should Quit Your Job and Start Freelancing

Do you like being bossed around? No? It’s only natural – nobody likes it. But the reality is that you enter adult life and all of a sudden, having a job is a requirement. One day, you didn’t even bother taking orders from your mom or siblings, and the next; you are taking orders from a complete stranger you don’t even like!

It is understandable; since the stranger in question is paying you to do work for him or her. When you are a leader, why must you be a follower in order to earn a living? You can make your own living! Here are the five reasons you should quit your job and start freelancing with that insurgent blood running in your veins:

You Are Your Own Boss

That’s the biggest advantage of having a freelancing career – you don’t follow someone else’s rules, you make your own! This independence comes with a healthy dose of freedom to work when you choose and where you choose.

Your relationship with your client will be democratic rather than autocratic. This different spirit in the relationship actually gives you an equal footing with your client, rather than being downplayed as simply a ‘staff member.’ You will set your own hours, build your own schedule, wake up when you want. Doesn’t that sound too good to be true?

Personal Space

How many times have you had to cancel plans with your friends or family because you didn’t get a leave? Are you tired of fitting your personal life around your work, and sometimes not being able to? With freelancing, you will have the opportunity to fit your work around your personal life. No more calling up friends to postpone movie plans. You can take a break from work when you want and not only that, you can take as much holidays or as little as you prefer, which means more personal space for family, even going on a vacation!

Financial benefits

The only reason you can ever lose your job is if YOU are careless and negligent. Therefore, since you are in charge, you have job security. Freelancing is an opportunity for you to learn how to keep your finances and manage money.

Furthermore, as compared to being a fulltime employee with a fixed pay, you are in a position to negotiate and change your rate. You can double or even triple it, in accordance with the client at hand. Not only this, you can work for multiple clients at the same time and increase your pay as a consequence.

Look at it this way, how can more money ever be a bad thing?

Skill Development

As a freelancer, you will have the chance to work with various different clients and in a multitude of roles. This will help you push your boundaries and widen your experience to an extent where you can not only hone your existing skills, but discover your ability to discover talents you never had!

For example, you may already know that you are a good writer, but if you are required to work with the design of the content as well, you could actually come to realize you are a competent designer. Ultimately, you will develop your core skill set and you will be able to create an image of being sought after rather than seeking clients. So, rather than being stuck in a rut at your job, you will have the opportunity to explore the rest of the path!

You Can Do What You Love

You can do what your love and love what you do. Since you don’t answer to anyone, you can literally take a u-turn with respect to which skill you wish to use as a freelancing opportunity. You are currently an accountant, you are good at what you do, but you don’t have a passion for it – you’d rather write all day. Leave that life behind and pursue writing as a freelancing career! With freelancing, the world is not only at your feet, but yours to live the way you want to.

You Have a Decision to Make

Now that you know all the reasons, ask yourself why you are continuing to work at this job, especially if you don’t like it? Then ask yourself if you want any of the things mentioned above to make your work life invigorating. Above all, ask yourself if you want to be your own boss. Is the answer yes? Then it’s definitely time for you to quit your job and start freelancing! You only live once, make it worth your while.

Tuesday, September 8, 2015

جب پاکستان نے بھارت کے دس جنگی طیارے تباہ کیے

وہ چھ ستمبر سنہ 1965 کا دن تھا، وقت دوپہر چار بجے اور مقام پاکستان کا پشاور ایئر بیس۔

سكوارڈن لیڈر سجاد ’نوذي‘ حیدر پٹھان کوٹ پر فضائی حملہ کرنے کے لیے اپنے ساتھی پائلٹس کو بريف کر رہے تھے۔

اچانک انہوں نے ایک بالٹی میں تازہ پانی طلب کیا اور 4711 نمبر کولون کی بوتل نکال کر اس بالٹی میں انڈیل دی۔

پھر انہوں نے چھوٹے چھوٹے تولیے منگوائے اور انہیں خوشبودار پانی میں ڈبو کر ساتھی پائلٹس کو پکڑا دیا۔

سجاد حیدر نےاس واقعے سے متعلق بی بی سی کو بتایا’میں نے ان سے کہا ہو سکتا ہے یہ آپ کا یک طرفہ مشن ہو اور آپ لوٹ کر واپس ہی نہ آئیں۔ میں چاہتا ہوں جب آپ اپنے خالق سے ملیں تو آپ کے اندر سے بہترین خوشبو آنی چاہیے۔‘

ٹھیک ساڑھے چار بجے 8 سیبر جیٹ طیاروں نے پشاور سے ٹیک آف کیا۔ وہ 11000 فٹ کی اونچائی تک گئے اور پھر نیچے غوطہ لگا کر درختوں کی اونچائی کی سطح پر اڑنے لگے۔

وارننگ کو نظر اندازکیا

ادھر بھارتی ریاست پنجاب کے پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر امرتسر ایئر بیس سے سكوارڈن لیڈر دنڈا کی ایک ارجنٹ ٹیلیفون کال آئی۔

انہوں نے ونگ کمانڈر کورین کو بتایا کہ کچھ سیبر جیٹ طیاروں کوٹیک آف کرنے کے بعد ریڈار کے پردے سے غائب ہوتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔

یہ کسی حملے کا اشارہ ہے اور اس پر کورین نے سٹیشن کمانڈرگروپ کیپٹن روشن سوری کو اس خدشہ کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے کیپ یعنی کامبیٹ ایئر پٹرول کی اجازت مانگی۔

سوری سے یہاں ایک بڑی غلطی ہوئی۔ انہوں نے کیپ کی اجازت نہیں دی۔

مگ 21 شعلوں میں

ٹھیک 5 بج کر 5 منٹ پر پاکستانی سیبر جنگی طیارے پٹھان کوٹ کے اوپر پہنچے۔ اوپر سے انہوں نے دیکھا کہ ایئر بیس پر بہت بڑی تعداد میں بھارتی جنگی طیارے کھڑے ہیں۔

نوذي حیدر نے 500 میٹر کی اونچائی سے بہت سنبھل کر ڈائيو لگائی اور نیچے کھڑے طیارے پر نشانہ لگا کر فكسڈ گن سے حملہ کیا۔

پھر انہیں بلکل نئے آئے دو مگ 21 دکھائی دیے۔ اس وقت ان میں ایندھن بھرا جا رہا تھا۔ انہوں نے ان پر بھی نشانہ لگا کر حملہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نئے طیارے شعلوں میں لپٹ گئے۔

جہاز سے نیچے کودے

اس گروپ کے باقی پائلٹوں نے بھی ڈائیو لگا کر حملہ کیا۔ انہیں صرف دو بار حملہ کرنے کا حکم ملا تھا لیکن بہت طیاروں کوایک ساتھ دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آ گیا اور انہوں نے بھارت کی اس فضائی بیس پر کئی حملے کیے۔ ان کی مزاحمت کرنے کے لیے ایک بھی بھارتی طیارہ اوپر نہیں آیا۔

سب سے اوپر کور دے رہے ونگ کمانڈر تواب نے نیچے کم از کم14 آگ کے گولے پھیلتے ہوئے دیکھے۔

بھارتی ونگ کمانڈر کورین اپنے گھر سے ملحقہ گیراج میں اپنی گاڑی پارک کر رہے تھے کہ انہیں طیارہ تباہ کرنے والی توپ کےگرجنے کی آواز سنائی دی۔

انہوں نے ایئر بیس کی طرف نظر دوڑائی تو دیکھا چار سیبر طیارے نیچے اڑتے ہوئے مشین گن سے گولیاں برسا رہے ہیں اور دو ایف 104 سٹار فائٹر اوپر سے ان کو کور دے رہے ہیں۔

جیسے ہی چار سیبر وہاں سے ہٹے دوسرے چار سیبر طیاروں نے ان کی جگہ لے لی۔ تقریباً اسی وقت جنک کپور اپنے نیٹ کو بلاسٹ پین کے اندر لے جا رہے تھے۔ ایک جونیئر افسر نے چلا کرکہا ’سر اوپر دیکھیے۔ وہ حملہ کر رہے ہیں۔‘

اسی دوران ایک سیبر نے مردیشور کے نیٹ کو بھی بلاسٹ پین میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس نے اس پر گولیوں کی بوچھار کردی۔ مردیشور جہاز سے نیچے کود کر بھاگے اور تبھی انہوں نےدیکھا کہ ان کا نیٹ آگ کے شلعوں میں جل کر راکھ ہو رہا ہے۔

کاک پٹ سے چھلانگ

ادھر 3 سكوارڈن کے فلائٹ لیفٹیننٹ ترلوچن سنگھ اپنا مسٹيرئس جہاز بلاسٹ پین میں پارک کر کے نیچے اتر ہی رہے تھے کہ ایک سیبر نے ان کے جہاز پر حملہ کیا۔ انہوں نے دوڑ کر ایک بنکر میں پناہ لی۔

ان کے دوسرے نمبر کے فلائنگ افسر رسل مونٹیس اب بھی ہوائی جہاز کے اندر تھے اور انہوں نے اپنی سیٹ بیلٹ بھی نہیں کھولی تھی۔ نیچے ایئر مین ان کے جہاز کے پہیے کے نیچے كلاک لگا ہی رہے تھے کہ گولیوں کی ایک برسٹ ان کی طرف آئی۔

ایئر مین نے رسل کی طرف شکایت بھری نظروں سے دیکھا۔انہیں لگا کہ رسل نے ہی غلطی سے پین کے اندر گولیاں چلا دی ہیں۔ بڑی مشکل سے رسل نے اپنی سیٹ بیلٹ کا سٹریپ کھولا۔ جب وہ طیارے سے نیچے اترنے لگے تو انہوں نے پایا کہ ایئر مین نے ان کے طیارے میں سیڑھی ہی نہیں لگائی ہے۔ انہوں نےاپنی جان بچانے کے لیے کاک پٹ سے ہی چھ فٹ نیچے چھلانگ لگائی۔

ایک گڈّھے میں چھ پائلٹ

اس وقت پٹھان کوٹ کی بیس کا صرف ایک مسٹيریئس طیارہ ہوا میں تھا۔ اور اسے فلائگ افسر مائیک میکموہن اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کچھ روز پہلے ہی ایئر فورس جوائن کیا تھا اور وہ ایک تربیتی مشن پر تھے۔ انہیں ریڈیو ٹریفک نے ہدایت دی کہ وہ پٹھان کوٹ سے دور رہیں اور پاکستانی حملہ مکمل ہونے کے بعد ہی نیچے اتریں۔

پاکستانی حملہ آور میكموہن کو نہیں دیکھ پائے۔ وہ بال بال بچے اور بعد میں بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل بنے۔

اس وقت پٹھان کوٹ میں تعینات ایئر مارشل راگھویندرن سبرامنیم اپنی سوانح عمری ’پینتھر ریڈ ون‘ میں لکھتے ہیں ’ہم تقریباً چھ سات پائلٹ ایک گڑھے میں ایک کے اوپر ایک لیٹے ہوئے تھے۔ سب سے نیچے والا پائلٹ چلّایا میرا بوجھ سے دم گھٹاجا رہا ہے۔ سب سے اوپر والے پائلٹ نے، جس کی پیٹھ گڑھے کے اوپر دکھائی دے رہا تھی، جواب دیا، مجھ سے اپنی جگہ بدلوگے؟‘

سبرامنیم آگے لکھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے چار نیٹ فضا میں بھیج دیے ہوتے تو پاکستانی اتنا نقصان نہیں کر پاتے۔ اسی دن پاکستانی طیاروں نے ہلوارا اور آدم پور پر بھی حملہ کیا۔ لیکن وہاں بھارتی طیارے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے تیار تھے۔ پاکستانی طیارے ان دونوں ایئر بیس کے اوپر تک سے بھی نہیں گزر پائے۔

سارے سیبر کامیاب حملہ کر کے محفوظ نکل گئے۔ اس حملے میں بھارت کے دس طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے۔

اس حملے میں شامل ہر ایک پاکستانی پائلٹ کو ’ستارہ جرات‘ جیسے اعزاز سے نوازا گیا۔

ان آٹھ پائلٹس میں سے مشہور گلوکار عدنان سمیع کے والد فلائنگ افسر ارشد سمیع بھی شامل تھے۔

Don't look now, but the future is here!

In the first half of the 20th Century, a wide range of futurists, science fiction writers and others predicted what life would be like in the Year 2000 and beyond. Many of those concepts made such an impact that they left an indelible mark on the public's imagination. In fact, many people assume that we're still slowly progressing toward that future. But I'm here to tell you that the real future has already arrived. More than that, the predicted future is boring and inferior to our amazing reality. Let's compare elements of yesterday's future with what's actually happening now. Pet robots In the future-obsessed 1920s, '30s and '40s, futurists commonly believed that robotic pets would become normal. A few prototypes were even mocked up and displayed at World's Fairs. One robot dog called Philidog was created in 1928. The most famous was Sparko, a robotic dog created in 1940. They were actually mechanical contraptions that responded in limited ways to various inputs. They achieved slow, clumsy movement with internal gears and wires. Futurists no doubt assumed that computers would eventually be involved, and that mechanical dogs would evolve into robot dogs. But no futurist could have predicted the massive computer power controlling today's home robot pets. The most recent example is the BB-8. Computerworld's Best Places to Work in IT 2015: Company Listings The complete listings: Computerworld's 100 Best Places to Work in IT for 2015 A compact list of the 56 large, 18 midsize and 26 small organizations that ranked as Computerworld's Read Now Unveiled last week by Sphero, the $150 BB-8 is a pet robot modeled after a droid in the upcoming Star Wars movie, The Force Awakens, which opens in December. Sphero worked with Disney on the design of the robot featured in the movie, then got the rights to make a branded toy pet based on the movie character. The BB-8 has a magnetically attached head. (Sphero's marketing material says the head is attached not with magnets but with "the force" -- or a "pseudo-inverted pendulum mechanism.") As the ball-shaped body rolls along, the head stays generally on top of the BB-8 while at the same time appearing to look around nervously and curiously. The BB-8 rolls around on its own and can be remote-controlled or run through user-determined programs. It even responds to voice commands. (Hilariously, it runs away in a panic when you say, "It's a trap!") Sphero's droid is also capable of simulated "holographic communication," which you can see as an augmented reality feature via your phone's camera and screen. The "brains" of the BB-8 is your Android or iOS smartphone running the BB-8 app, which will no doubt gain new powers and abilities with each new update. The processing power for the BB-8 (your phone) vastly exceeds anything imaginable until recently. In comparison, the mid-century futurists could not have predicted or imagined even the IBM Deep Blue supercomputer that beat chess champion Garry Kasparov in 1997. Deep Blue was capable of 11.38 GFLOPS (a GFLOP is 1 billion floating point operations per second), which is puny compared to the 115.2 GFLOPS that the iPhone 6's A8 SoC delivers. So when your BB-8 is rolling around amusing the family, it's being powered by the equivalent of more than 10 IBM supercomputers of the late 1990s. So yeah, we have the predicted robot pets. And they're probably way more advanced than the futurists predicted. Jet packs Futurists also envisioned jet packs -- apparently believing that lashing a high-powered engine to your back would be a viable form of transportation. The jet pack idea was so compelling, in fact, that it was brought to fruition decades ago. The jet packs that, say, Nick Macomber flies in demonstrations are essentially perfected versions of the concept from the 1960s and '70s. The jet packs based on the decades-old predictions keep you in the air for 30 seconds or so. They're also dangerous. The new version of the old jet pack vision is off-limits to the public. Compare that with the much-better jet-pack-like concepts that are a reality, and are available to anyone who has the money and courage to use them. For example, check out this video of Yves Rossy and Vince Reffet, who fly jetpacks combined with hard-wing wingsuits to fly like Superman. What Readers Like Ashley Madison CEO Noel Biderman This Ashley Madison hack story keeps getting worse and worse [u4] open windows with clouds 164757 1280 4 overblown Windows 10 worries Hands-on with the Samsung Galaxy Note 5 And next year, if you've got $150,000 to spend, you'll be able to buy the world's first commercially available jet pack, the Martin Jetpack. Flying cars Dozens of actual flying car products have hit the market, or will soon. Most of these are more accurately described as "roadable aircraft," because they're basically airplanes that have fold-up wings and can be driven on roads. The creation of flying cars hasn't solved the problem of where you can fly them. Pilot's licenses and advanced training are required. Airspace, weather, obstacle avoidance and all the standard factors involved in flying planes apply. So the long-predicted dream of escaping traffic jams by taking off from the freeway and soaring into the sky can't happen because it's both dangerous and illegal. So most people who could own roadable aircraft don't. These vehicles are inferior airplanes and inferior cars. It's much better, it turns out, to buy a real car plus a real airplane. But one of the core predicted attributes of yesterday's flying car of the future was the ability to fly to places where there's no airport or runway. And that vision is quickly becoming a reality. Two companies are working on vertical-takeoff airplanes for the consumer market. One is the TF-X from Terrafugia. The other is the TriFan 600 from XTI. Popular Resources eBook Sponsored 5 Secrets to Building Your Sales Pipeline Video/Webcast Sponsored vGPU technology from Dell, VMware and NVIDIA: Examples from the Real World See All These airplanes will both let you fly as you would in an airplane and land in your front yard (regulations permitting) -- or on a helicopter pad on top of a building in a major city. Food in pill form Another favorite idea of the 20th Century futurists was technology that would free us from the problems and hassles of eating. The concept was that all the nutrition you might ever need could be delivered in capsules, thus relieving us of the need to expend time and energy on shopping, cooking and cleaning up. A Silicon Valley venture-backed startup called Soylent is selling that same vision in powder and liquid form. It explicitly touts the benefit of saving time. And it's enhancing that vision by promoting the environmental friendliness and low cost of its product (you can survive on Soylent for about $70 per month). But we have something now that's far better than food pills or even Soylent: We have real food that's really good. A '50s-era futurist wouldn't have been able to imagine the quality and variety of food we have today. (Turns out people enjoy eating. Go figure.) The reality is that much of our world today meets or exceeds the expectations of yesterday's futurists.

Monday, October 27, 2014

Saturday, October 25, 2014

Friday, October 17, 2014

 

Copyright @ 2013 Latest Information 4 U.