Showing posts with label Discover technology. Show all posts
Showing posts with label Discover technology. Show all posts

Thursday, October 6, 2016

الیکٹرک گاڑیوں نے تیل کی منڈیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی




الیکٹرک گاڑیوں نے تیل کی منڈیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت نے حالیہ برسوں میں انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے جس کی ترقی نے تیل کی منڈیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔  اقتصادی خبروں کے لیے مخصوص خبر رساں ایجنسی “بلوم برگ” نے خبردار کیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کا تیزی سے ترقی کرنا تیل کی منڈیوں میں آئندہ بحران کا مرکزی سبب بنے گا جب کہ گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں نے بھی اس نوعیت کی گاڑیوں کی مانگ میں بے پناہ اضافے کی تصدیق کی ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ 6 برسوں کے دوران الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا میں چھا جائیں گی اور پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی روایتی گاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیں گی۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں تیزی سے جاری اضافے کے نتیجے میں محض آئندہ سات برسوں کے دوران تیل کی عالمی مانگ میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کمی آجائے گی اور اس مقدار میں عالمی مانگ میں کمی آنے سے یقینی طور پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں حد تک کمی واقع ہوگی۔ گزشتہ برسوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے بالخصوص فی بیرل 100 ڈالر کی قیمت تجاوز کرنے کے سبب الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو عالمی سطح پر انتہائی پذیرائی حاصل ہوئی۔

بلوم برگ کے مطابق دنیا میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی تین بڑی کمپنیوں نے منصوبہ بندی کی ہوئی ہے کہ بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا آغاز اوسطا 30 ہزار ڈالر کی قیمت سے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر کمپنیاں بھی اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہیں اور اس سلسلے میں مزید سستی گاڑیاں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 2022 تک الیکٹرک گاڑی کی قیمت روایتی گاڑی کے برابر ہوجائے گی اور یہ وہ نقطہ ہے جہاں سے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافے کا آغاز ہوجائے گا۔

Thursday, September 29, 2016

ویڈیو بنانے اور اسے آن لائن اپلوڈ کرنے والی عینک متعارف


ویڈیو بنانے اور اسے آن لائن اپلوڈ کرنے والی عینک متعارف

اس سال کے آخر تک اسنیپ چیٹ خصوصی سن گلاس متعارف کرائے گی جس میں لگا حساس کیمرہ 10 سیکنڈ کی وڈیو بناکر اسے ازخود اسنیپ چیٹ پر ریلیز کردیتا ہے۔  یہ عینک وائی فائی اور بلیو ٹوتھ کے ذریعے اسنیپ چیٹ ایپ کے ذریعے ویب سائٹ پر بھیج دیتی ہے۔ عینک کو اسپیکٹیکلز کا نام دیا گیا ہے جو انسانی آنکھ کی طرح ویڈیو بناتے بناتا اور اس لینس کا زاویہ 115 درجے رکھا گیا ہے۔

ویڈیو رکارڈ کرنے کے لیے چشمے کی کمانی پر لگا بٹن دبائیے جس کے بعد ویڈیو بننا شروع ہوجائے گی اور اگلے ورژن میں 30 سیکنڈ تک کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی جاسکے گی۔ لیکن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق اس ایجاد کو دھیرے دھیرے منظرِ عام پر لایا جائے گا کیونکہ ہمیں دیکھنا ہے کہ لوگ اسے کس طرح استعمال کرتےہیں۔ اسنیپ چیٹ پر اس سال جون تک 10 ارب ویڈیو دیکھی گئی تھیں۔ تاہم اس کی آزمائش کے بعد لوگوں نے ویڈیو کے معیار کو حیران کن قرار دیا ہے۔ ان عینکوں کی تعارفی قیمت قریباً 130 ڈالر یا پاکستانی 13 ہزار روپے سے کچھ زائد رکھی گئی ہے۔

Monday, September 19, 2016

ٹویٹر کا نیا اعلان


ٹویٹر کا نیا اعلان 

سوشل میڈیا کی ٹاپ کلاس ویب سائٹس میں ٹویٹر بھی کسی ویب سائٹ سے کم نہیں ہے-فیس بک کے بعد ٹویٹر ہی صارفین کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ہے ٹویٹر کی وہ خامی جو اکثر صارفین کو تنگ کرتی تھی وہ الفاظ کی حد تھی - ٹویٹر نے اپنے صارفین کے لیے الفاظ کی حد محض ایک سو چالیس تک محدود کی ہوئی تھی مگر اب ایسا نہیں ہوگا - ٹویٹر کے سینئر پروڈکٹ مینیجر نے اپنی ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ٹویٹر اب اپنے صارفین کے لیے الفاظ کی پابندی کی حد ختم کرنے جا رہا ہے - ٹویٹر کی اس نئی اپ ڈیٹ سے صارفین اب اپنا میسج ایک سے زیادہ ٹویٹ کی بجانے ایک ہی ٹویٹ میں تحریر کر سکیں گے

اس سے قبل ٹویٹر شئیر کی جانے والی ویڈیوز، امیجز اور گفس کو بھی الفاظ کی صورت میں شامل کرتا تھا مگر اب یہ چیزیں الفاظ کا حصہ نہیں ہوں گی - اس کے علاوہ ٹویٹر میں ایک نیا بٹن بھی شامل کیا جا رہا ہے جس کو استعمال کرتے ہوے صارفین ری ٹویٹ کی سہولت سے مستفید ہوں گے- امید کی جا رہی ہے کہ ٹویٹر کے ان اقدامات کی وجہ سے اس کے صارفین کی تعداد میں کافی اضافہ ہو گا کیوں کہ وہ افراد جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں ان کو اپنا کام ایک بہتر طریقے سے سر انجام دینے کا موقع ملے گا لہٰذا انے والے دنوں میں ٹویٹر کے صارفین میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے

Tuesday, August 30, 2016

ٹیلی ویژن کی جدید ترین ٹیکنالوجی


ٹیلی ویژن کی جدید ترین ٹیکنالوجی 

موجودہ دور میں ٹیلی ویژن کی جو جدید ترین ٹیکنالوجی مارکیٹ میں دستیاب ہے وہ "فور کے " ہے- اس ٹیکنالوجی کے ٹی وی کافی مہنگے ہیں - جبکہ اس ٹیکنالوجی سے پہلے" یو ایچ ڈی" ٹیلی ویژن کی جدید ترین ٹیکنالوجی تھی- "یو ایچ ڈی " کا مطلب الٹرا ہائی ڈفیشنسی ہے - یو ایچ ڈی سے پہلے جو ٹیکنالوجی چل رہی تھی اس کا نام "ایچ ڈی" ہے- لیکن اب جاپان میں ٹی وی کی ایک اور ٹیکنالوجی پر ریسرچ ہو رہی ہے اور اس ٹیکنالوجی کا نام ہے "ایٹ کے ٹیکنالوجی" 

"ایٹ کے ٹیکنالوجی" پر دو مشہور زمانہ کومپنیوں کی مشترکہ ٹیم کم کر رہی ہے- جن میں سے ایک پینا سونک اور دوسری سونی ہے- "ایٹ کے ٹیکنالوجی" کو سپر ہائی ویژن ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے- یہ ٹیم سٹریمنگ اور کمپریشن ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں تا کہ "ایٹ کے ٹیکنالوجی" کے سگنلز کو عام براڈبینڈ پر براڈکاسٹ کیا جانے - دلچسپی کی بات یہ ہے کے اس وقت مارکیٹ میں ایٹ کے ٹیکنالوجی کا ٹی وی بک رہا ہے اور اس کی قیمت پاکستانی روپوں میں کروڑوں ہے - اور یہ ٹی وی شارپ کومپنی کا تیار کردہ ہے 

Tuesday, August 23, 2016

فیس بک نے بچوں کے لیے نئی ایپ لانچ کر دی


فیس بک نے بچوں کے لیے نئی ایپ لانچ کر دی

سماجی رابطوں کی مشہور زمانہ ویب سائٹ فیس بک نے اسکول جانے والے بچوں کے لیے ایک نئی ایپ متعارف کرا دی ہے- اس ایپ کا نام لائف سٹیج رکھا گیا ہے- لائف سٹیج کے یوزر اپنی من پسند تصویریں اور ویڈیوز اپلوڈ کر سکتے ہیں - مزے کی بات یہ ہے کہ اپ لوڈ ڈ ڈیٹا کو پھر ویڈیو پروفائل کی شکل دے دی جاتی ہے- لائف سٹیج فیس بک سے کافی حد تک مختلف فیچرز بھی سموے ہوے ہے- فیس بک میں آپ اپنی پوسٹس کو پبلک بھی رکھ سکتے ہیں اور پرائیویٹ بھی- مگر لائف سٹیج میں آپ کی تمام پوسٹس پبلک ہی ہوتی ہیں- یعنی آپ کی شئیر کی گئی ویڈیو تمام یوزرز دیکھ سکتے ہیں

لائف سٹیج کے بانی کا کہنا ہے کہ لائف سٹیج کو بنانے کا مقصد سکول کے بچوں میں محض رابطہ قائم رکھنا ہے-لائف سٹیج کے گروپ میں بچوں کی تعداد بیس سے زیادہ ہونے پر یوزر دوسرے یوزرز کا پروفائل دیکھ سکتا ہے- ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق لائف اسٹیج میں سیکورٹی کے متعلق خدشات موجود ہیں

Wednesday, August 10, 2016

انسانی دماغ کی ہیکنگ



برین کمپیوٹر انٹرفیس ایک ایسی ٹیکنالوجی کا نام ہے جس کا زر یعے انسانی دماغ کو براہ راست کمپیوٹر سے منسلک کیا جاتا ہے- گویا اس ٹیکنالوجی سے انسانی دماغ کو کنٹرول کیا جاتا ہے- ایک امریکی یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق اب انسانی دماغ کو بھی ہیک کیا جا سکتا ہے- کچھ سائنس داں اس بات کا بھی انکشاف کر رہے ہیں کہ ماضی میں کچھ انسانوں کے دماغ ہیک کے جا چکے ہیں

برین کمپیوٹر انٹرفیس میں انسان کے دماغی سگنلز کو باقاعدہ ریڈ کیا جاتا ہے اور پھر اس ڈیٹا کو تصویری سانچے میں ڈھالا جاتا ہے- حاصل شدہ مواد سے انسان کی عادات اور خیا لات کو پرکھا جاتا ہے-دیکھنے میں یہ چیزیں عام سی لگتی ہیں مگر ہیکر ز اس کے زر یعے انسان کو تباہی کے دھانے پر بھی لا سکتے ہیں - انسان کی سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا جا سکتا ہے 

مثال کے طور پر ایک ویڈیو گیم کھیلتے ہوے یوزر سے اکثر یوزر کے ذاتی ڈیٹا کا مطا لبہ کیا جاتا ہے- عام یوزر اسے ایک محض چھوٹی سی بات سمجھتا ہے جبکے ہیکر اسی سے آپ کے متعلق بہت کچھ جان چکا ہوتا ہے 

Sunday, July 31, 2016

ایپل کمپنی آئی فون سیون میں ڈائل بٹن متعارف کرائے گی


سان فرانسسكو: آئی فون نے حال ہی میں اپنے آئی فون اور آئی پیڈ ٹیبلٹ کے لیے گھومنے والے چھوٹے بٹن پر مشتمل ایک ’تھمب بٹن‘ متعارف کرایا ہے جسے مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

شاید یہ نیا بٹن آئی فون سیون کا حصہ بن سکے گا ۔ تاہم یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ ایپل  آئی فون سیون کی بجائے اپنے نئے فون کو آئی فون سکس ایس ای کا نام دے گا۔ ایپل نے پیٹنٹ درخواست میں اسے ’ روٹری بٹن‘ کا نام دیا ہے جو آئی او ایس آلات پر نصب کیا جائے گا جو آواز، اسکرولنگ، ٹیکسٹ ری سائز کرنے اور دیگر کاموں کے لیے استعمال ہوگا۔ شاید یہ بٹن ایپل واچ اور دیگر آلات میں بھی متعارف کرایا جائے گا اور کمپنی کا خیال ہے کہ یہ ایپل واچ کو اسکرول، زوم اور میسجنگ کرنے میں کام آئے گا۔ اسے ” کیپیسیٹو ٹچ پینل فور سینسنگ مکینکل ان پٹس ٹو اے ڈیوائس” نام دیا گیا ہے جس کی پیٹنٹ درخواست مارچ 2014 میں دی گئی تھی لیکن اس پیٹنٹ میں آئی فون میں باقاعدہ بٹن بھی شامل کئے گئے ہیں جو دیگر کاموں میں کام آئیں گے۔ مثلاً ایک پاور بٹن سے فون کو آن یا آف کیا جاسکے گا۔

ایپل کمپنی کے مطابق اس گھومنے والے بٹن کو آئی پیڈ کے نیچے اور آئی فون کے اوپر لگایا جائے گا اور اس کی کچھ ڈرائنگز اور خاکے جاری کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آئی فون کے نئے ماڈل میں فنگر پرنٹنگ، آپٹیکل اور الٹرا سونک سینسر بھی نصب ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایپل نے فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی بھی متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بلیک بیری الیکٹرون فون میں آخری مرتبہ 2006 تھمب بٹن دیکھا گیا تھا۔

Monday, July 25, 2016

مشہور انٹرنیٹ کمپنی ’’یاہو‘‘ کے اثاثے 4.8 ارب ڈالر میں فروخت


نیویارک: مشہور انٹرنیٹ کمپنی ’’یاہو‘‘ اپنے بنیادی اثاثے ’’ویریزن کمیونی کیشن‘‘ کو 4.8 ارب ڈالر میں فروخت کررہی ہے یعنی پاکستانی روپوں میں اس سودے کی مالیت 480 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق آج نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ شروع ہونے سے پہلے اس سودے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا تاہم یاہو اور ویریزن، دونوں نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ یاہو گزشتہ چند سال سے شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور بقاء کی جدوجہد میں نئی حکمتِ عملی کی جستجو میں ہے۔ ویریزن نے پچھلے سال امریکا آن لائن (اے او ایل) 4.4 ارب ڈالر میں خریدی تھی، جس کے بعد یاہو کے اہم اثاثوں کی خریداری اس کا ایک اور بڑا سودا ہوگا جس سے ویریزن کو آن لائن ایڈورٹائزنگ سے متعلق ٹیکنالوجی ٹولز، سرچ انجن، میل، میسنجر اور جائیداد (ریئل اسٹیٹ) سمیت، یاہو کے بہت سے اثاثوں کے مالکانہ حقوق حاصل ہوجائیں گے۔

اس سودے کے بعد یاہو کی اصل انتظامیہ کے پاس صرف یاہو جاپان کے 35.5 فیصد جبکہ چینی ای کامرس کمپنی ’’علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ‘‘ کے 15 فیصد شیئرز رہ جائیں گے۔

Saturday, July 16, 2016

فیس بک میں انسٹاگرام کے مزے


انسٹاگرام ایپلی کیشن کو پسند کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں بہترین فوٹو ایڈیٹنگ ٹولز موجود ہوتے ہیں جن کی بدولت صارفین تصاویر پر مختلف فلٹرز لگا کر انھیں مزید دلکش بنا سکتے ہیں اور اس کا سائز وغیرہ بھی بدل سکتے ہیں۔

جبکہ فیس بک جہاں سب سے زیادہ صارفین موجود ہیں اور تصاویر اپ لوڈ کرنے کی تعداد بھی زیادہ وہاں ایسی کوئی سہولت نہیں تھی تاہم اب فیس بک نے اس خامی کو دُور کر دیا ہے۔

اب آپ فیس بک پر اپنی تصاویر اپ لوڈ کرتے ہوئے ان میں ایڈیٹنگ بھی کر سکیں گے۔ اس فوٹو ایڈیٹر ٹول کی مدد سے آپ تصاویر پر دلکش فلٹرز لگا کر انھیں مزید خوبصورت بنا سکتے ہیں۔



اس فوٹو ایڈیٹر کے ذریعے تصاویر کو کروپ بھی کیا جا سکے گا یعنی تصویر کا غیر ضرور حصہ باآسانی تصویر سے الگ کیا جا سکے گا۔

اس کے علاوہ تصویر پر کوئی متن بھی لکھا جا سکے اور دلچسپ اسٹکرز بھی لگائے جا سکیں گے۔

Monday, June 13, 2016

انٹر نیٹ کے بغیر یوٹیوب ویڈیوز دیکھنا بھی ممکن ہو گیا


انٹر نیٹ کے بغیر ویڈیو شیئرنگ ایپ یوٹیوب کا استعمال ممکن نہیں مگر اب یو ٹیوب نے اس حوالے سے زبردست فیچر متعارف کرایا ہے۔

کیلی فورنیا: (ویب ڈیسک) موبائل پر ویڈیوز دیکھنے والوں کیلئے یوٹیوب نے ایک اور آسان سہولت متعارف کروا دی۔ یوٹیوب نے ایک فیچر اسمارٹ آف لائن کو متعارف کرایا ہے جس کے تحت ویڈیوز کو کسی اسمارٹ فون پر انٹر نیٹ کنکشن کے بغیر رات بھر میں ڈاﺅن لوڈ کر سکیں گے اور انہیں کسی بھی وقت اور کہیں بھی دیکھا جا سکے گا ۔ یوٹیوب نے یہ فیچر ابھی بھارت کے اسمارٹ فون صارفین کے لیے متعارف کرایا ہے۔ اس کے لیے یوٹیوب نے بھارت میں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں ائیر ٹیل اور ٹیلی نار سے شراکت داری کی ہے۔ یوٹیوب کے مطابق کہ اس فیچر کو جلد انڈیا بھر میں کام کرنے والے موبائل نیٹ ورکس تک توسیع دی جائے گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر ممالک جیسے پاکستان میں بھی اسے متعارف کرایا جائے گا۔ نئے فیچر کو صرف وہی صارفین استعمال کر سکیں گے جو سیلولر ڈیٹا نیٹ ورک سے منسلک ہوں گے تاہم یہ آپشن وائی فائی پر نظر نہیں آئے گا اور یوٹیوب ویڈیوز پر گرے ایرو پر کلک کر کے کلپس کو آف لائن دیکھنے کے لیے محفوظ کر سکیں گے۔ یوٹیوب کے مطابق صارفین اپنی پسند کی ویڈیوز پر کلک کر کے رات کو سو جائیں اور اگلی صبح اٹھیں گے تو وہ ویڈیو آف لائن دیکھنے کے لیے تیار ہوں گی اور کسی قسم کی بفرنگ کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ ویڈیوز اسمارٹ فون میں ویڈیوز کے فولڈر میں محفوظ ہوں گی اور صارفین ان ویڈیوز کو موبائل ایپ کی مدد سے اپنے فون میں محفوظ کر سکیں گے۔

Tuesday, June 7, 2016

ایک فون پر دو دو وٹس ایپ اور فیس بک اکاؤنٹس استعمال کریں


ڈوئل سم فون آج کل عام استعمال میں ہیں اور انہیں استعمال کرنے کی کئی ناگزیر وجوہات ہیں جن میں کوئی شخص اپنے ذاتی اور کاروباری معاملات کو الگ الگ رکھنا چاہتا ہے تو اسے دو موبائل نمبرز کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن اب آپ ایک ایپ کے ذریعے ہی اپنے فون پر 2 اکاؤنٹس استعمال کرسکتے ہیں۔

دوسروں کی ضروریات کو سمجھنے والی ایپلی کیشنز جیسے کہ انسٹاگرام موجود ہے جو یہ اجازت دیتی ہے کہ ایک ہی فون پر 2 اکاؤنٹس استعمال کیے جا سکیں لیکن وہیں وٹس ایپ اور فیس بک جیسی ایپلی کیشنز بھی موجود ہیں جو سمجھتی ہیں کہ کسی کے لیے بھی ایک اکاؤنٹ کافی ہے۔ ڈوئل سم فون ہونے کے باوجود آپ فیس بک اور وٹس ایپ کے دو اکاؤنٹ ایک فون پر استعمال نہیں کر سکتے۔

ایسی صورت حال میں پیرالل اسپیس (Parallel Space) ایپلی کیشن اپنی خدمات مفت پیش کرتی ہے جس کے ذریعے آپ ایک فون پر باآسانی فیس بک، وٹس ایپ اور جس ایپلی کیشن کے چاہیں 2 اکاؤنٹس استعمال کر سکتے ہیں۔ اس ایپلی کیشن کی انسٹالیشن کے بعد آپ دیکھیں گے کہ فیس بک اور وٹس ایپ جیسی ایپلی کیشنز کے آئی کن کے گرد ایک لکیر لگا دی گئی ہے جس ایپلی کیشن کا آپ دوسرا اکاؤنٹ بنانا چاہیں اس کے نیچے پلس کے بٹن پر کلک کریں تو وہ ایپلی کیشن بالکل ابتدائی انداز میں کھل جائے گی جس میں آپ نیا اکاؤنٹ لاگ ان کر سکیں گے۔ اس طرح ایک ہی ایپلی کیشن میں آپ کے دو دو اکاؤنٹس باآسانی اور بیک وقت کام کرتے رہیں گے۔

Monday, May 30, 2016

بلیو ٹوتھ کا مطلب کیا ہے؟


آج تقریباً ہر موبائل میں بلیو ٹوتھ نام کی ایک ڈیوائس موجود ہے لیکن کبھی آپ نے سوچا کہ بلیو ٹوتھ کے نام کے معنی کیا ہیں، اس کا نام بلیوٹوتھ کیوں رکھا گیا اور اس کا ماخذ کیا ہے؟

لاہور: (نیٹ نیوز) بلیو ٹوتھ ڈیوائس 1994ء میں معروف ٹیلی کام کمپنی ‘‘ایرکسن’’ کے سافٹ ویئر انجینئرز کی ٹیم نے ایجاد کی تھی لیکن اس کا نام 1997ء میں بلیو ٹوتھ رکھا گیا۔ اس ٹیم کے ایک رکن جم کارڈیک 1997ء میں تاریخی ناول ‘‘دی لانگ شپس’’ پڑھ رہے تھے۔ اس ناول میں قدیم ڈنمارک کے بادشاہ ہرالڈ بلیو ٹوتھ کے کارنامے بیان کئے گئے تھے کہ کس طرح اس نے ڈنمارک کو متحد کرکے سلطنت قائم کی۔ ہرالڈ بلیو ٹوتھ ایک زیرک انسان تھا۔ اس نے اپنے دور اقتدار میں ڈنمارک کے منقسم اور بکھرے ہوئے قبائل کو ایک سلطنت کے تحت متحد کیا تھا۔ بلیو ٹوتھ ڈیوائس بھی چونکہ ایک سے زائد ڈیوائسز کو باہم منسلک کرتا ہے، اس لیے اس کا نام ہرالڈ بلیو ٹوتھ کے نام پر رکھا گیا یہی نہیں بلکہ بلیو ٹوتھ کا لوگو بھی ہرالڈ بلیو ٹوتھ کے نام کے ابتدائی حروف کو باہم ملا کر بنایا گیا ہے۔

Wednesday, March 9, 2016

تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے دھڑ جڑے بچوں کا کامیاب آپریشن




چینی ڈاکٹروں نے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے دھڑ جڑے بچوں کا کامیاب آپریشن کرکے انھیں علیحدہ کر دیا ہے۔
 
شنگھائی: (ویب ڈیسک) غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شنگھائی کی فنڈن یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے 12 گھنٹے کے طویل آپریش کے بعد دھڑ جڑے بچوں کا کامیاب آپریشن کرکے انھیں ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں نے تھری ڈی پرنٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کا گیا۔ 
ان جڑواں بچوں کے والدین کا تعلق چین کے دو دراز علاقے گویٹو سے ہے۔ والدین تقریبا ایک ہزار میل کا سفر طے کرکے شنگھائی پہنچے تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد بچوں کی حالت بہتر ہے تاہم انھیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

Tuesday, February 23, 2016

ایف بی آئی سے تنازع، زکربرگ کا ایپل سے اظہارِ ہمدردی


سماجی روابط کے لیے دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے چیف ایگزیکیٹو مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سے تنازع کے تناظر میں ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے تئیں ہمددری کے جذبات رکھتے ہیں۔
ایف بی آئی نے اپیل کو حکم دیا ہے کہ وہ سان برنارڈینو میں حملہ کرنے والے رضوان فاروق کے آئی فون کو ’ان لاک‘ کرے تاکہ اس میں موجود مواد تک رسائی مل سکے تاہم ایپل نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا ہے۔
مارک زکربرگ نے پیر کو کہا کہ وہ اس بات میں یقین نہیں رکھتے کہ حکام کے پاس انکرپشن کے تحت محفوظ بنائے جانے مواد تک رسائی کا کوئی چور دروازہ ہو۔
سپین کے شہر بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران زکربرگ کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ انکرپشن توڑنے کے لیے چور دروازے بنانا، سکیورٹی بہتر بنانے کے تناظر میں موثر اقدام ہے یا یہ کوئی درست عمل ہے۔‘
’ہمیں ٹم کک اور ایپل سے ہمدردی ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں ان کی کمپنی دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پرعزم ہے وہیں وہ انکرپشن کی بھی حامی ہے۔



اس سے قبل فیس بک نے جمعرات کو ایپل کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کی مخالفت کی حمایت کی تھی جس میں ایپل کو کے لیے آیف بی آئی کی مدد کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ گذشتہ دسمبر میں رضوان فاروق نے کیلیفورنیا کے شہر سان برناڈینو میں اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔
رضوان فاروق سے ایک آئی فون برآمد ہوا تھا اور اس فون میں موجود تحریری اور تصویری مواد تک رسائی کے معاملے پر ٹیک کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین انکرپشن کی حدود پر تنازع سامنے آیا ہے۔
خیال رہے کہ عدالت نے ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ سان بارنارڈینو کے حملہ آور سید رضوان فاروق کے آئی فون میں موجود ڈیٹا تک رسائي کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرے۔
تاہم ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گيا تھا کہ ’امریکہ کی حکومت نے ایپل کو ایک بے مثل قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے ہمارے صارفین کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ہم اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں، جس کے حالیہ قانونی مقدمے کے علاوہ بھی اثرات ہیں۔‘
فیس بک کے علاوہ ٹوئٹر اور گوگل نے بھی اس معاملے پر ایپل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

Wednesday, February 10, 2016

گوگل دہشت گردی کے خلاف سرگرم


گوگل انٹرنیٹ سرچ سے وابستہ دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ انٹرنیٹ پر تلاش کی اربوں ڈالرز حجم رکھنے والی صنعت میں سب سے زیادہ حصہ گوگل کا ہے۔ آن لائن سرچنگ کرنے والے نصف سے زائد افراد گوگل کا سہارا لیتے ہیں۔ ان افراد میں عام لوگوں کے علاوہ دہشت گرد بھی شامل ہوتے ہیں۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ دہشت گردی کی بیشتر وارداتوں میں گوگل بھی ’معاونت‘ کرتا ہے۔ امریکا، برطانیہ اور دوسرے ممالک میں پکڑے گئے دہشت گردوں سے دوران تفتیش پتا چلا کہ انھوں نے اپنی مذموم کارروائیوں میں گوگل سرچ سے بھی استفادہ کیا تھا۔ ان واقعات کے تسلسل سے رونما ہونے کے بعد گوگل نے اب دہشت گردوں کا راستہ روکنے کی تیاری کرلی ہے۔ گوگل کے مطابق جلد ہی اپنے سسٹم میں ایسی تبدیل کرنے والی ہے جس کے بعد دہشت گرد گوگل پر کچھ بھی سرچ کریں گے تو جواب میں غلط نتائج ظاہر ہوں گے۔

یہ اعلان گذشتہ دنوں گوگل کے سینئر ایگزیکٹو ڈاکٹر انتھونی ہاؤس نے برطانوی پارلیمان کے اراکین سے ملاقات میں کیا۔ ڈاکٹر انتھونی کا کہناتھا کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کوششیں کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے رواں سال دو آزمائشی پروگرام شروع کیے جارہے ہیں۔

ایک پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ لوگ جب سرچ انجن میں دہشت گردی سے جڑی مختلف اصطلاحات اور الفاظ درج کریں تو سرچ دبانے پر غیر متعلق نتائج ظاہر ہوں۔ ڈاکٹر انتھونی کے مطابق دوسرا پروگرام یہ اصطلاحات اور الفاظ تلاش کرنے والوں کی شناخت کرنے سے متعلق ہے ۔دہشت گردی سے جڑی اصطلاحات و الفاظ عام نتائج کے بجائے اسپانسرڈ لنکس کی صورت میں گوگل سرچ میں سب سے اوپر ظاہر ہوں گے۔

دہشت گردی پر قابو پانے کے ضمن میں گوگل کے یہ اقدامات کس قدر مفید ثابت ہوں گے اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ البتہ دہشت گردی سے جڑی ہر سرچ کے جواب میں غلط نتائج کا ظاہر ہونا بھی مشکل ہوگا۔ اس کا اندازہ گوگل کی پبلک پالیسی کی منیجر ویریٹی ہارڈنگ کے بیان سے بھی ہوتا ہے۔ ویریٹی کے مطابق یوٹیوب پر ہر منٹ میں 300 گھنٹے دورانیے کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ مختصر وقت میں ڈیٹا کی اتنی بڑی مقدار کو فلٹر کرنا کمپنی کے لیے ممکن نہیں ہے۔

Tuesday, February 9, 2016

ملک میں تھری وفور جی صارفین کی تعداد 2 کروڑ 36 لاکھ سے تجاوز کرگئی



اسلام آباد: ملک میں تھری جی اور فور جی صارفین کی تعداد 2 کروڑ 36 لاکھ 50ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

پی ٹی اے کے ذرائع کے مطابق نومبر2015 میں یہ تعداد 2 کروڑ 16 لاکھ 80 ہزار تھی تاہم دسمبر2015 میں یہ تعداد بڑھ کر2کروڑ36 لاکھ50 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ ایک ماہ کے دوران اس سہولت سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد میں20لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق موبی لنک کے تھری جی صارفین کی تعداد72 لاکھ 40 ہزار، زونگ 47 لاکھ 50 ہزار تھری جی جبکہ 2لاکھ 82ہزار فور جی، ٹیلی نار63 لاکھ70ہزار، یو فون43 لاکھ جبکہ وارد دو لاکھ 14 ہزار صارفین کو یہ سہولتیں فراہم کررہا ہے۔

Thursday, January 28, 2016

فائر فاکس اب ای میل اور شوشل میڈیا نوٹیفیکیشن براہ راست براؤزر میں دکھائے گا


صارفین کو درجنوں ٹیبز کھولے رکھنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی


اب فائر فاکس پر کام کرتے ہوئے درجنوں ٹیبز کھولنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایک نئی اپ ڈیٹ میں براؤزر ویب سائٹس کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ صارفین کو ویب سائٹس کھولے بغیر نوٹیفیکیشن دکھا سکیں۔

ای میل، شوشل میڈیا اور دوسری ویب سائٹس کھول کر نوٹیفیکیشن چیک کرتے رہنے سے بہتر ہے کہ صارفین اپنا کام کرتے رہیں، جب بھی نوٹیفیکیشن اپ ڈیٹ ہو، ڈویلپر آپ کو بغیر ویب سائٹ کھولے وہ نوٹیفیکیشن دکھا سکے۔

اس اپ ڈیٹ کےبعد صارفین کو بیک وقت بہت سی ویب سائٹس کی ٹیبز کھولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور نہ ہی کمپیوٹر بیک گراؤنڈ میں تمام ویب سائٹس چلا کر ہلکان ہوگا۔

صارفین کو اس حوالے سے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ ڈویلپر بے تحاشا ان چاہے نوٹیفیکیشن بھیج بھج کر انہیں مصیبت میں ڈال دیں گے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ڈویلپرز کو نوٹیفیکیشن بھیجنے کے لیے صارفین کی اجازت کی ضرورت ہوگی۔

فائرفاکس ایڈریس بار کے ساتھ ”I “ کنٹرول سنٹر کے آئیکون پر کلک کر کے صارفین پش نوٹیفیکیشن کی سیٹنگ کر سکتے ہیں۔

بغیر ٹیب کے پش نوٹیفیکیشن ابھی بھی میک پر سفاری پش نوٹیفیکیشز اور ایپل پش نوٹیفیکیشن سروس پر کام کر رہے ہیں۔ گوگل کروم میں بھی اسی طرح کا پش نوٹیفیکیشن سسٹم موجود ہے۔
۔

Thursday, January 21, 2016

نوکیا لومیافون کا سافٹ ویئر باآسانی ری انسٹال کریں


ویسے تو اینڈروئیڈ فونز سب سے زیادہ مقبول ہیں کیونکہ اینڈروئیڈ کے اوپن سورس ہونے کی وجہ سے اس کے سستے مہنگے ہر قسم کے فون دستیاب ہیں اور ہر کوئی اپنے بجٹ کے حساب سے فون خرید سکتا ہے۔ لیکن اینڈروئیڈ کے علاوہ ونڈوز فون پسند کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ نوکیا لومیا فونز کی آمد نے ونڈوز فون کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ اگر آپ کے پاس نوکیا لومیا فون موجود ہےاور اس کا آپریٹنگ سسٹم کچھ خرابی کے آثار دِکھا رہا ہے تو اس مسئلے کو ’’ونڈوز ڈیوائس ریکوری ٹول‘‘ کی مدد سے فیکٹری روم (ROM)امیج دوبارہ سے انسٹال کر کے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

نوکیا فونز کے سافٹ ویئر سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مائیکروسافٹ نے دو ٹولز فراہم کر رکھے ہیں۔ ونڈوز فون ورژن 8 پر چلنے والے فونز کے لیے ’’ونڈوز ڈیوائس ریکوری ٹول‘‘ جبکہ دیگر تمام نوکیا فونز کے لیے ’’نوکیا سافٹ ویئر ریکوری ٹول‘‘ موجود ہے۔ اپنی ڈیوائس کے اعتبار سے آپ ان میں سے کسی ٹول کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ٹول کی انسٹالیشن کے بعد فون کو بذریعہ یو ایس بی کیبل پی سی سے جوڑیں۔



جیسے ہی ٹول فون کو پہچان لے آپ ’’اپ ڈیٹنگ‘‘ یا ’’ری اسٹورنگ‘‘ کسی ایک آپشن کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ سافٹ ویئر کی اس ری انسٹالیشن میں فون پر موجود تمام ڈیٹا ختم ہو جائے گا اس لیے اس کام سے پہلے اپنے اہم ڈیٹا کو بیک اپ ضرور کر لیں۔

Continue کے بٹن پر کلک کریں تو یہ ٹول نوکیا کے سرور سے فون کے لیے روم امیج (ROM image) کا تازہ ترین ورژن ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کر دے گا۔



روم مکمل ڈاؤن لوڈ ہونے پر فون میں انسٹال کر دی جائے گی لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا اس لیے صبر سے انتظار کریں۔



انسٹالیشن کا یہ عمل جسے Flashing کہتے ہیں مکمل ہونے کے بعد فون کو ری اسٹارٹ کر دیا جائے گا۔ جس کے بعد آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔


ونڈوزڈیوائس ریکوری ٹول اور نوکیا سافٹ ویئر ریکوری ٹول ان پروگرامز کی مدد سے آپ خود باآسانی فون کا فرم ویئر ری سیٹ اور ری انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں ٹولز اور ان کو استعمال کرنے کا طریقہ مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ پر ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔ یہاں دی گئی ہدایات کو ایک دفعہ ضرور پڑھیں اور اس کے بعد اپنے فون کے اعتبار سے ٹول ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کریں۔ یاد رہے چونکہ ٹول کو سافٹ ویئر مائیکروسافٹ کے سرور سے ڈاؤن لوڈکرنا ہے اس لیے آپ کے پاس انٹرنیٹ کا چل رہا ہونا ضروری ہے۔ 

Wednesday, January 20, 2016

بٹ واکنگ ایپلی کیشن

بٹ واکنگ ایپلی کیشن کو پچھلے سال ستمبر میں لانچ کیا گیا تھا۔ یہ اپنی طرز کی منفرد ایپلی کیشن ہے جو پیدل چلنے والوں کو پیسے دیتی ہے۔یہ ایپلی کیشن پیدل چلنے والوں کو بٹ واکنگ ڈالر میں ادائیگی کرتی ہے۔ ایک بٹ اکنگ ڈالر کمانے کے لیے 10ہزار قدم تک پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ اسے لانچ کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ کمائے گئے بٹ واکنگ ڈالر سے کمپنی کے سٹور پر خریداری کی جا سکتی ہے یا پھر اسے بنک اکاؤنٹ میں بھی ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔

یہ ایپلی کیشن ابھی تک پرائیویٹ بیٹا ورژن میں ہے۔تاہم صارفین چاہیں تو سائن اپ کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ 

Microsoft pledges ‘cloud computing for public good'

Computing giant Microsoft has pledged to provide $1bn-worth (£700m) of cloud computing resources to organisations it deems to be working for the "public good".


The resources will be shared out over the next three years to about 70,000 non-profits and 900 university research projects.

In simplest terms, cloud computing is the term given to storing data on the internet, rather than on a local computer.

As well as making data more easily accessible, the added promise for non-profits is that the resources will provide vast amounts of computing power that would ordinarily be out of reach for all but the biggest businesses.

In a blog post explaining the initiative, Microsoft's chief legal officer Brad Smith wrote: "Cloud services can unlock the secrets held by data in ways that create new insights and lead to breakthroughs, not just for science and technology, but for addressing the full range of economic and social challenges and the delivery of better human services."

The crunching of so-called "big data" is seen as a major opportunity for non-profits dealing in social issues that pose a cumbersome problem without the kind of processing power cloud computing can provide.

In that respect, Microsoft's pledge isn't for a tangible product, or cash, but instead access to servers and services that normal businesses would need to pay considerable fees for.

The money will also be spent on improving "last mile" internet connectivity - the hope is countries that are under connected will begin to enjoy some of the luxuries more developed internet nations have - such as broadband at home.

Tough crowd

Other companies, particularly Facebook, have pursued similar goals.
Facebook's Internet.org project is investing in connectivity technologies - such as drones - to fill that last mile, helping what founder Mark Zuckerberg refers to as the "next billion" people to access the web.

However, initiatives such as this aren't always so well received. Facebook's Free Basics scheme, in which certain mobile sites were accessible for free, has caused uproar in India, where local businesses say Facebook is giving itself an unfair advantage over local competitors.

Microsoft will invariably be hit with the same accusation - that a donation over three years will be made in the hope that organisations will become ingrained in the Microsoft cloud ecosystem for many more years to come.

That said, Microsoft boss Satya Nadella has gained considerable applause for his continually expressed desire to use Microsoft's immense size and wealth in developing countries, including his native India.

As well as being a guest of Michelle Obama at the recent State of the Union address, the 48-year-old is attending the World Economic Forum in Davos this week, seeking to stress Microsoft's potential to provide computing power for initiatives beyond big business.

In a blog post published on Wednesday, he wrote: "If cloud computing is one of the most important transformations of our time, how do we ensure that its benefits are universally accessible?

"What if only wealthy societies have access to the data, intelligence, analytics and insights that come from the power of mobile and cloud computing?"

 

Copyright @ 2013 Latest Information 4 U.